Quran – Apathy and Neglect

Spread the love

Quran – Apathy and Neglect

Humiliation and Disgrace of the Muslims in the world

The main reason for the humiliation and visibility of the Muslims in the world is that we have left the Quran. Quran is the main source of our religion, the source of faith and the source of power. Our opponents were honorable and powerful because they held the Qur’an and we are weak and humiliated because we have left the Qur’an.

It is the condition of our people that almost half of the population does not read the Quran. Those who read it may not understand what they are reading and those who read the Qur’an understand that there is probably not even one percent in our society. It is the case of our schools, colleges and universities that there is no curriculum in the Qur’an and the other sciences taught there are not in accordance with the Quranic teachings. It is a case of our religious schools that the Qur’an is not given as much time and attention as the Arabic language and Hadith.

Even the majority of students who memorize the Qur’an do not understand it. Our scholars and readers go to mosques and people’s homes to teach the Quran to children, but only to teach the viewer, not to translate. There is a mosque in every neighborhood of ours (Praise be to Allah) and this mosque is not the center of teaching the Quran. It does not have the arrangement of teaching the Qur’an as much as that of a jihadist whose preachers are the imams and speakers of the mosque. There is no part.

We are all involved in the crime of neglecting the Qur’an. I wish we understood that the result of leaving the Quran is the disgrace of both the world and the Hereafter. May Allah help us to connect and connect with the Qur’an.

دنیا میںہم مسلمانوں کی ذلت و رسوائی اور ضعف کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے جو ہمارے دین کا بنیادی ترین ماخذ ہے ، جو منبع ایمان ہے اور منبع قوت بھی۔ ہمارے اسلاف اس لئے معزز اور صاحب سطوت و قوت تھے کہ انہوں نے قرآن کو پکڑ رکھا تھا اور ہم اس لئے کمزور اور خوار و زبوں ہیں کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔
ہمارے عوام کا یہ حال ہے کہ تقریباً آدھی آبادی کو قرآن پڑھنا نہیں آتا۔ جن کو پڑھنا آتا ہے وہ سمجھ نہیں سکتے کہ کیا پڑھ رہے ہیں اور ایسے لوگ جو قرآن کو پڑھتے ہوئے سمجھتے ہیں ہمارے معاشرے میں شاید ایک فی صد بھی نہیں۔ ہمارے سکولوں، کالجوںاور یونیورسٹیوں کا یہ حال ہے کہ وہاں قرآن داخل نصاب نہیں اور جو دیگر علوم وہاں پڑھائے جاتے ہیں وہ قرآنی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ ہمارے دینی مدارس کی یہ صورت ہے کہ وہاں قرآن حکیم کو اتنا وقت اور توجہ بھی نہیں دی جاتی جتنی مثلاً عربی زبان اور حدیث کو دی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ جو طلبہ قرآن حفظ کرتے ہیں ان کی اکثریت بھی اس کو نہیں سمجھتی۔ہمارے علماء اور قاری حضرات مسجدوں میں اور لوگوں کے گھروں میں جاکر بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں لیکن صرف ناظرہ پڑھنا سکھاتے ہیں، ترجمہ نہیں سکھاتے۔ ہمارے ہر محلے میں مسجد موجود ہے (الحمدللہ و ماشاء اللہ) لیکن یہ مسجد قرآن سکھانے کا مرکز نہیں ہے۔ اس میں قرآن سکھانے کا اتنا اہتمام بھی نہیں ہوتا جتنا اس فقہی مسلک کا ہوتا ہے جس کے مبلّغ مسجد کے امام اور خطیب صاحب ہوتے ہیں۔ہمارے صوفی اللہ ھو کی ضربیں لگا کر لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس تزکیے میں قرآن کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

قرآن سے غفلت کے جرم میں ہم سب شریک ہیں۔ کاش ہم سمجھتے کہ قرآن کو چھوڑنے کا نتیجہ دنیا و آخرت دونوں کی رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن سے جڑنے اور جوڑنے کی توفیق عنایت فرمائیں،